تارک الدنیا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - وہ شخص جس نے دنیا کو چھوڑ دیا ہو، گوشہ نشیں، بن باسی، پرہیزگار۔ "آلّو کی زندگی بود و باش ایک باخدا تارک الدنیا درویش کی سی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٦١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'تارک' کے ساتھ 'ا ل' بطور حرف تخصیص لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی صفت 'دنیا' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٨٩٧ء میں "دعوت اسلام، عنایت اللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ شخص جس نے دنیا کو چھوڑ دیا ہو، گوشہ نشیں، بن باسی، پرہیزگار۔ "آلّو کی زندگی بود و باش ایک باخدا تارک الدنیا درویش کی سی ہے۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٦١ )